LIVE
Loading Breaking News...

ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ: نکی انڈیکس میں سیمی کنڈکٹر شیئرز کی فروخت سے کمی

News Image
جاپانی حصص بازار میں ٹیکنالوجی کے شعبے بالخصوص سیمی کنڈکٹر شیئرز میں فروخت کے رجحان کے باعث نکی انڈیکس میں چار سو اٹھاسی ین کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے جڑے چند مخصوص اسٹاکس میں سلیکٹو بائنگ بھی دیکھی گئی۔
ٹوکیو کے حصص بازار میں منگل کے روز جاپانی ایکوئٹیز نے مسلسل گراوٹ کا رجحان جاری رکھا، جہاں نکی انڈیکس (Nikkei 225 Index) میں 488 ین کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، یہ گراوٹ بنیادی طور پر معروف امریکی کمپنی اینڈیا (Nvidia) کی سہ ماہی آمدنی کی رپورٹس سامنے آنے سے پہلے سیمی کنڈکٹر شیئرز میں شدید فروخت کے دباؤ کی وجہ سے پیش آئی۔ سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے اپنے تکنیکی اثاثوں کو کم کرنے میں مصروف نظر آئے۔تجارت کے دوران نکی انڈیکس میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا اور سیشن کے اختتام پر یہ انڈیکس 0.60 فیصد نیچے بند ہوا۔ دوسری جانب، مارکیٹ کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) سے جڑے ہوئے بعض منتخب ناموں اور کمپنیوں میں مخصوص خریدار (selective buying) کا رجحان بھی دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مکمل طور پر مارکیٹ سے باہر نہیں نکل رہے بلکہ انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے پوزیشنز تبدیل کر رہے ہیں۔غیر اے آئی (non-AI) اسٹاکس میں بھی کچھ حصوں کے اندر اندرونی مضبوطی دیکھی گئی، جس کی وجہ سے بازار میں مکمل طور پر مندی کی لہر کے بجائے ایک محدود رینج میں ٹریڈنگ کا رجحان غالب رہا۔ تاہم، نکی وولاٹیلٹی انڈیکس (Nikkei Volatility Index) میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور یہ بڑھ کر 33 کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اضافہ اس احتیاط کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی کارپوریٹ نتائج اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ بیانات سے پہلے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پائی جا رہی ہے۔جاپانی معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے بالخصوص سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی کارکردگی ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ سرمایہ کار فی الحال امریکہ سے آنے والے معاشی اشاریوں اور کارپوریٹ آمدنی کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا جا سکے۔