World
نیپال چین سرحد پر سیلاب اور تودہ گرنے سے ہلاکتیں اور تباہی
نیپال میں چین کے سرحدی علاقے میں شدید سیلاب اور تودہ گرنے کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور سیکڑوں مسافر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے متاثرہ علاقوں میں فوری اور بھرپور امدادی کارروائیوں کی ہدایت جاری کی ہے۔
نیپال میں بدھ کے روز آنے والے خوفناک سیلاب اور تبت کے تجارتی مرکز میں تودہ گرنے کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک جبکہ 384 مسافر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا نے اس سانحے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ نیپالی پولیس کی جانب سے جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طغیانی کے دوران گدلے پانی کا ریلہ پہاڑی وادیوں سے گزرتے ہوئے اپنے راستے میں آنے والے مکانات اور گاڑیوں کو بہا لے گیا۔ سیاحتی بورڈ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں سے لاپتہ ہونے والے 384 مسافروں میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں، جن کی تلاش کے لیے حکام کوششیں کر رہے ہیں۔ سیلاب کی زد میں آنے والے علاقوں میں سیاحوں کا مقبول ترین مقام لانگ ٹانگ ٹریک کا نقطہ آغاز سیابروبیسی اور کیلاش مانسروور یاترا کے راستے بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پانی کا بہاؤ اس قدر شدید تھا کہ اس نے پلک جھپکتے ہی کئی ٹرکوں اور گھروں کو تہس نہس کر دیا۔ نیپالی فوج نے فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے ہیلی کاپٹرز اور ڈیزاسٹر رسپانس کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیے ہیں، تاہم بعض پولیس اہلکار بھی تاحال رابطہ سے باہر ہیں۔ دوسری جانب نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی نے بتایا ہے کہ اس قدرتی آفت کی وجہ سے ہائیڈرو پاور اور سولر سمیت تقریبا 430 میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے جس سے بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال اور چین کے سرحدی دریا پر چٹان اور برف کا تودہ گرنے سے دریا کا راستہ بند ہوا جس کے باعث یہ اچانک سیلابی ریلا آیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے متاثرہ علاقوں میں مکمل طاقت کے ساتھ ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کے انتہائی موسمی واقعات میں تیزی آ رہی ہے اور ممکنہ طور پر دوسرے سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔