LIVE
Loading Breaking News...

سمور کا ہیومن چوائس سروے: مصنوعی ذہانت میں عوامی آواز

News Image
غیر منافع بخش تنظیم سمور نے مصنوعی ذہانت کے فیصلوں اور پالیسیوں میں عام انسانوں کو شامل کرنے کے لیے ہیومن چوائس سروے کا آغاز کیا ہے۔ اس عالمی اقدام کا مقصد اے آئی کی ترقی میں انسانی حدود اور ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔
سیکرمنٹومیں قائم ایک نئی غیر منافع بخش تحقیقاتی اور سماجی اثرات کی حامل تنظیم سمور (Cimore) نے دنیا بھر میں اپنے اہم ترین اور پہلے فلیگ شپ اقدام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے عالمی منصوبے کا نام ہیومن چوائس سروے رکھا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی دنیا میں عام انسانوں کو ایک براہ راست اور مؤثر آواز فراہم کرنا ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے قدموں اور فیصلوں میں محض کارپوریشنز یا ماہرین کی بجائے عام انسانوں کی رائے کو بھی بنیادی اہمیت ملنی چاہیے۔ اس عالمی سروے کا آغاز فرنٹ لائن کے پیشہ ور افراد کے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا جا رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار اور حدود کا تعین کیا جا سکے۔ حالیہ برسوں میں جس تیزی سے مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنائی ہے، اس نے معاشتی اور اخلاقی حوالے سے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ سمور کی اس ریسرچ اور سوشل امپیکٹ تنظیم کا ہدف یہی ہے کہ ان اخلاقی اور عملی سوالات کے جوابات میں دنیا بھر کے عام شہریوں کی سوچ اور ترجیحات کو نمایاں مقام دلایا جائے تاکہ آنے والے وقت میں اے آئی کی پالیسیاں زیادہ متوازن اور انسان دوست بن سکیں۔ تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق اس سروے کے نتائج کو بین الاقوامی سطح پر اے آئی کی پالیسی سازی، ضابطہ اخلاق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے رہنما خطوط کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس وقت دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر بحث جاری ہے اور حکومتیں بھی اس حوالے سے فریم ورک تیار کر رہی ہیں۔ ایسے میں سمور کا یہ قدم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی مستقبل کی سمت کا فیصلہ صرف بند کمروں میں نہ ہو بلکہ اس میں عالمی سطح پر عام لوگوں کی رائے اور ترجیحات کی بھرپور جھلک دکھائی دے۔ اس اقدام سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ ہیومن چوائس سروے جیسی کوششیں آنے والے دور میں مصنوعی ذہانت اور انسانی معاشرے کے درمیان ایک پائیدار اور بہتر تعلق قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ تنظیم نے دنیا بھر کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سروے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار کو انسانی فلاح و بہبود کے مطابق ڈھالا جا سکے۔