LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکنالوجی کمپنیوں میں نوکریوں کی کٹوتی، 2026ء میں لاکھوں ملازمین متاثر

News Image
سال 2026ء کے دوران ایپل، مائیکروسافٹ اور میٹا سمیت دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر نوکریوں میں کٹوتی کی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اخراجات میں کمی کے باعث اب تک ایک لاکھ پچھتر ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کیا جا चुका ہے۔
دنیا بھر کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں سال 2026ء کے دوران ملازمتوں کی کٹوتیوں کا ایک نیا اور شدید سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت ایپل، مائیکروسافٹ، اوریکل، ایمیزون، میٹا، ٹک ٹاک، اور لنڈڈ ان جیسی بڑی نامور کمپنیاں اب تک ایک لاکھ پچھتر ہزار سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر چکی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس لہر کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کا تیزی سے فروغ اور کاروباری ڈھانچے میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔ کمپنیاں اپنے روایتی طریقہ کار کو تبدیل کر کے زیادہ کام خودکار سسٹمز کے سپرد کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی وسائل کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ٹیک انڈسٹری میں جاری اس کٹوتی سے نہ صرف جونیئر بلکہ سینئر سطح کے پروفیشنلز بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ اور میٹا جیسی دیو قامت کمپنیاں اپنے اخراجات کو قابو میں رکھنے اور مستقبل کے پراجیکٹس میں فنڈنگ بڑھانے کے لیے اپنے عملے کا سائز مسلسل گھٹا رہی ہیں۔ اس عمل کا بنیادی مقصد کاروباری منافع کو برقرار رکھنا اور مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے کا دباؤ برداشت کرنا ہے۔ اس صورتحال نے پوری دنیا میں آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے گہری تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ ملازمتوں کے مواقع کم ہونے سے نوجوان گریجویٹس کے لیے بھی کیریئر کا آغاز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کارپوریٹ رہنماؤں کا موقف ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے لیے ری اسٹرکچرنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ فیصلے کمپنیوں کے مالیاتی استحکام کے لیے ضروری سمجھے جا رہے ہیں، لیکن اس کے معاشی اور معاشرتی اثرات لاکھوں متاثرہ خاندانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر اے آئی کی دوڑ مزید تیز ہوئی تو ملازمتوں میں کمی کا یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔