LIVE
Loading Breaking News...

امریکی معیشت کی دوسری سہ ماہی کارکردگی اور شرح نمو

News Image
امریکی معیشت کی ترقی کی رفتار رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں سست ہو کر ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک محدود ہو گئی۔ تاہم اس دوران صارفین کی جانب سے گھریلو اخراجات اور خریداری کا رجحان مضبوط رہا۔
امریکی معیشت کی ترقی کی رفتار رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران سست روی کا شکار رہی اور شرح نمو ایک اعشاریہ پانچ فیصد پر ریکارڈ کی گئی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اپریل سے جون کے مہینوں میں معاشی سرگرمیوں کا دائرہ کار توقعات کے مطابق کچھ محدود رہا جس سے مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی اور مقامی چیلنجز کے باعث شرح نمو میں یہ سست روی متوقع تھی، تاہم اس کے باوجود بعض شعبوں نے تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ معیشت کی اس سست رفتار کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ صارفین کی جانب سے اخراجات اور خریداری کا عمل تاحال مضبوط رہا ہے۔ گھریلو سطح پر ہونے والے ان اخراجات نے معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور منڈی میں طلب کا توازن برقرار رکھا ہے۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ بڑی پیداواری اور صنعتی سرگرمیوں میں سستی آئی ہے، لیکن عام خریدار کی قوتِ خرید اور اخراجات نے معاشی بحران یا جمود کے خدشات کو فی الحال ٹال دیا ہے۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق دوسری سہ ماہی کے یہ اعداد و شمار اقتصادی ماہرین کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہیں۔ اس صورتحال نے مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کو بھی سوچ بچار پر مجبور کر دیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکی وفاقی ریزرو کی مانیٹری پالیسی کیا رخ اختیار کرے گی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آنے والے کوارٹرز میں مہنگائی کے دباؤ اور شرح سود کے فیصلوں کا براہ راست اثر معاشی رفتار پر پڑے گا، جس سے یہ طے ہوگا کہ آیا امریکی معیشت اس سست روی سے باہر نکل پاتی ہے یا اسے مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔