LIVE
Loading Breaking News...

پی پی پی کا انتظامی اکائیوں کی بحث پر ردعمل

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی نے نئے انتظامی اکائیوں کے قیام کی حالیہ بحث کو مزید آگے نہ بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ پی پی پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو اس قسم کے مباحث کی بجائے معاشی استحکام پر توجہ دینی چاہئے۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ملک میں نئے انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی بحث کے حوالے سے اپنے واضح مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر یہی ہوگا کہ اس حساس معاملے کو مزید آگے نہ بڑھایا جائے۔ سینیٹ کے اجلاس کے دوران پی پی پی کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں آئینی اور انتظامی نوعیت کے معاملات چھیڑنے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اس موضوع پر گرما گرم بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی موجودہ ترجیحات میں عوامی فلاح و بہبود اور معاشی چیلنجز سے نمٹنا سرفہرست ہونا چاہئے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب کچھ روز قبل محسن نقوی اور دیگر سیاسی شخصیات کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کے خیالات اور تجاویز سامنے آئیں تھیں۔ سیاسی حلقوں میں اس تجویز پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا جہاں بعض جماعتوں نے اس کی حمایت کی تو وہیں پیپلز پارٹی نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ پی پی پی کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے حساس امور پر غیر ضروری بحثیں قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی توانائیاں ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے اور عام آدمی کو ریلیف دینے پر مرکوز رکھیں۔ پارٹی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تر ترمیم یا انتظامی تقسیم جیسے معاملات پر اتفاق رائے کے بغیر آگے بڑھنا درست حکمت عملی نہیں ہوگی۔ اس تازہ بیان کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے میں انتظامی اکائیوں کے قیام کا یہ مباحثہ وقتی طور پر دھیما پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کے درمیان اس نوعیت کے امور پر بحث وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہے۔