LIVE
Loading Breaking News...

نیپال تبت سرحد پر ہلاکت خیز سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا واقعہ

News Image
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم 19 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس قدرتی آفت کے بعد سیکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت کی سرحد کے قریب آنے والے ایک طوفانی سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق پانی اور مٹی کا ایک ریلاب دریا کے کناروں کو توڑتا ہوا آبادی پر آ گرا، جس کی وجہ سے کئی عمارتیں ملبے تلے دب گئیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچی۔ اس آفت نے خطے میں نظامِ زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔ نیپالی پولیس اور سیاحتی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تباہی کے کئی گھنٹے بعد بھی 384 سیاح لاپتہ ہیں جن میں سے 291 کا تعلق غیر ممالک سے ہے۔ لاپتہ ہونے والے سیاحوں میں امریکی، برطانوی، بھارتی، آسٹریلوی اور ملائیشین شہری بھی شامل ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق، ان کے گھروں کو پلک جھپکتے ہی سیلابی ریلے نے اپنے اندر لپیٹ لیا۔ امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے نیپالی فوج نے ہیلی کاپٹرز اور ڈیزاسٹر رسپانس کے دستے متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دیے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا سکے اور لاپتہ ہونے والوں کی تلاش کا عمل جاری رکھا جا سکے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ نیپالی الیکٹرسٹی اتھارٹی نے بتایا کہ پن بجلی اور سولر منصوبوں سمیت تقریباً 430 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اہم شاہہیں بھی لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ سیلاب ممکنہ طور پر نیپال کی جانب گلیشیر یا برفانی تودے کے ٹوٹنے سے بننے والی جھیل کے پھٹنے کی وجہ سے آیا جس نے دریا کے بہاؤ کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ دوسری جانب، چینی قیادت نے اس سانھے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکنہ ریسکیو آپریشن چلانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ تبت کے علاقے گیئرونگ پورٹ کے قریب بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جون سے ستمبر تک جاری رہنے والا مون سون کا سیزن جنوبی ایشیا میں اکثر ہلاکت خیز سیلابوں کا سبب بنتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ان انتہائی موسمی واقعات کی شدت اور تعدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریائے بالائی حصے میں پانی کا بہاؤ تاحال رکاوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے دوسرے سیلابی ریلے کا خطرہ بھی موجود ہے۔