Pakistan
پمز ہسپتال آگ کا واقعہ: سکیورٹی رکاوٹوں سے امدادی کام متاثر
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی آگ کے حوالے سے سامنے آنے والی انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی رکاوٹوں اور ہسپتال کے بند راستوں کی وجہ سے فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکاروں کو بروقت امدادی کارروائیاں کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد کے معروف اور بڑے طبی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں حال ہی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد ایک جامع انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ہسپتال کی انتظامیہ اور حفاظتی انتظامات پر کئی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، جو کہ مستقبل میں کسی بھی بڑے حادثے سے بچنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے روز جب آگ نے ہسپتال کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ بروقت موقع پر پہنچ گیا تھا، تاہم انہیں ہسپتال کے اندرونی حصوں تک رسائی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہسپتال کی حدود میں موجود سکیورٹی رکاوٹیں اور متعدد داخلی و خارجی راستوں کا بند ہونا اس تاخیر کی بنیادی وجہ بنی۔ فائر فائٹرز کو آگ بجھانے والے آلات اور گاڑیوں کو جائے وقوعہ تک لے جانے کے لیے متبادل اور طویل راستے استعمال کرنا پڑے، جس کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع ہوا۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہسپتال جیسے حساس اور اہم ترین ادارے میں جہاں روزانہ ہزاروں مریض اور ان کے لواحقین موجود ہوتے ہیں، وہاں ہنگامی بنیادوں پر راستوں کو کھلا رکھنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ سکیورٹی کے سخت پروٹوکولز اور بغیر کسی بہتر لائحہ عمل کے بند کیے گئے دروازوں نے ریسکیو آپریشن کو بری طرح متاثر کیا۔ واقعے کے بعد شہریوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد وزارتِ صحت اور پمز انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور مستقبل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایک بہتر اور فول پروف سکیورٹی و ریسکیو پلان ترتیب دیں تاکہ اس قسم کے دردناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔