Technology
خون نکالنے والا روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کا صحت پر اثر
نیدرلینڈز میں کیے گئے ایک طبی تجربے کے دوران خون نکالنے والے ایک روبوٹ نے اوسطاً ایک منٹ اور انچاس سیکنڈ میں مریض کا بازو پڑھ کر کامیابی سے رگ کا انتخاب کیا اور سوئی داخل کی۔ یہ جدید ٹیکنالوجی طبی شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے مریضوں کے مسائل میں کمی آئے گی۔
نیدرلینڈز میں حال ہی میں مکمل ہونے والے طبی تجربات کے دوران ایک حیرت انگیز روبوٹ نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے جو انتہائی مہارت اور تیزی کے ساتھ انسانی جسم سے خون کے نمونے لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جدید مشین نے تجرباتی مراحل کے دوران صرف ایک منٹ اور انچاس سیکنڈ کے اوسط وقت میں مریض کے بازو کا معائنہ کیا، بہترین رگ کا انتخاب کیا، احتیاط کے ساتھ سوئی داخل کی اور پھر مطلوبہ ٹیسٹ ٹیوبز کو خون سے بھر کر سوئی کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ یہ کارکردگی طبی ماہرین کے لیے بھی ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنی ہے کیونکہ ایک تجربہ کار طبی عملے کو بھی اس عمل میں اس سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد نہ صرف طبی عملے کا بوجھ کم کرے گی بلکہ ہسپتالوں میں طویل قطاروں اور انتظار کے اوقات کو بھی نمایاں طور پر کم کر دے گی۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی اس امتزاجی ٹیکنالوجی کو سال 2026 کی سب سے بڑی طبی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ریگولیٹری اداروں سے منظوری کے حتمی مراحل طے ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ روبوٹ جلد ہی دنیا بھر کے ہسپتالوں اور لیبارٹریز میں عام استعمال کے لیے دستیاب ہو گا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مریضوں کو بھی بڑی راحت ملے گی جن کی رگیں روایتی طریقوں سے آسانی سے تلاش نہیں کی جا سکتیں کیونکہ روبوٹک سینسرز اور مصنوعی ذہانت کا الگورتھم انتہائی درستگی کے ساتھ رگوں کی نشاندہی کرتا ہے۔