World
سوڈان بحران پر اقوام متحدہ میں برطانیہ کا مؤقف اور جنگ بندی کا مطالبہ
برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان میں جاری تباہ کن جنگ کا خاتمہ صرف ایک جامع اور عوا می سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے۔ سوڈان کا بحران دنیا کا بدترین انسانی المیہ بن چکا ہے جس کے لیے فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ میں برطانوی نمائندے نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سوڈان میں جاری خونی جنگ اور انسانی مصائب کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب فریقین فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی، مستقل سیز فائر اور ایک جامع سویلین قیادت والے سیاسی عمل پر اتفاق کریں۔ برطانوی بیان میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سوڈان کی یہ جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکی ہے، جس نے لاکھوں بے گناہ شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلتی ہوئی اس مسلح کشیدگی کو اندرونی اور بیرونی خطے کے مختلف ذرائع سے ملنے والی اسلحہ کی سپلائی اور غیر قانونی فنڈنگ مزید ہوا دے رہی ہے۔
اجلاس کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی غذائی قلت، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے مسلسل اپیلوں کے باوجود متحارب فریقین کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔ برطانیہ نے زور دیا ہے کہ تمام بیرونی طاقتیں سوڈان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کریں اور اسلحے کی فراہمی روکیں تاکہ خطے میں امن کی بحالی کا کوئی راستہ نکل سکے۔ سوڈانی عوام طویل عرصے سے اس المناک صورتحال کا شکار ہیں اور انہیں فوری طور پر ریلیف کی ضرورت ہے۔
برطانیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سوڈان میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا گیا کہ وہ سوڈان میں جاری خون خرابے کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل تیار کریں، کیونکہ اب مزید تاخیر لاکھوں مزید زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ایک پائیدار اور جامع سیاسی عمل ہی سوڈان کو اس اندھیرے سے نکال کر استحکام کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔