AI
انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کی تحریروں میں بڑا اضافہ
نئی تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ پر موجود نئے ویب صفحات کا ایک تہائی حصہ اب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تحریروں پر مشتمل ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے اصل تخلیقی صلاحیتوں اور مواد کے معیار کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کے وہ خدشات اب حقیقت بن چکے ہیں جو وہ طویل عرصے سے اصل تحریری معیار، مواد کے معیار اور تحریری اسلوب کے بگاڑ کے حوالے سے ظاہر کر رہے تھے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لارج لینگویج ماڈلز (Large Language Models) کی آمد کے بعد سے انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تحریر کردہ مواد کا تناسب تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ محققین کے مطابق اب نئی بننے والی ویب سائٹس کے ایک تہائی سے زائد صفحات پر ایسی تحریریں پائی جا رہی ہیں جو کسی انسان کے بجائے کسی کمپیوٹر الگورتھم نے تیار کی ہیں۔
اس صورتحال نے ڈیجیٹل دنیا کے ماہرین، اساتذہ اور مواد تخلیق کرنے والوں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں جو کام صرف انسانی دماغ اور طویل محنت سے ممکن تھا، اب وہ سیکنڈوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے انجام دیا جا रहा ہے۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے تنوع اور صداقت پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اصل انسانی تحریریں پس منظر میں چلی جائیں گی اور انٹرنیٹ کا بڑا حصہ صرف ایک جیسے روبوٹک اندازِ بیان پر مشتمل ہو جائے گا۔
دوسری جانب، سرچ انجنوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے کہ وہ اصلی اور نقلی مواد میں کیسے تمیز کریں۔ اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کی بھرمار کی وجہ سے صارفین کو بھی مستند اور معیاری معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ محققین کا پرزور مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے نئے ضابطے بنائے جائیں تاکہ انٹرنیٹ پر مواد کے معیار کو گرنے سے بچایا جا سکے اور انسانی تخلیقیت کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔