Business
بھارت میں مشروم کی پیداوار اور زرعی چیلنجز
بھارت میں مشروم کی پیداوار سنہ 2015 کے اکاون ہزار ٹن سے بڑھ کر 2024 میں تین لاکھ سینتالیس ہزار ٹن سے زائد ہو گئی ہے۔ پیداوار میں اضافے کے باوجود کولڈ چین اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مشروم کی پیداوار میں حیرت انگیز اور ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کاشتکاروں کی دلچسپی اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس شعبے نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ سرکاری اور زرعی اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں مشروم کی کل پیداوار جو سنہ 2015 میں محض اکاون ہزار ٹن تھی، وہ بڑھ کر سنہ 2024 میں تین لاکھ سینتالیس ہزار سات سو پچاس ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اس شاندار کامیابی نے ملک کے زرعی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے اور کسانوں کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کیے ہیں۔ اس پورے عمل میں ریاست بہار نے سب سے آگے رہتے ہوئے ملک بھر میں مشروم کی پیداوار میں سب سے بڑی ریاست کا اعزاز حاصل کیا ہے اور یہاں کے کسانوں نے اس کی کاشت میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔
تاہم، اس بڑی کامیابی اور تیز رفتار ترقی کے باوجود اس شعبے کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جو مستقبل میں اس کی مزید ترویج اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے، معیاری بیجوں کی فراہمی کو یقینی بنانے اور جدید طریقوں کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے بیشتر حصوں میں جدید کولڈ چین اور مناسب گوداموں یا اسٹوریج کے فقدان کی وجہ سے کسانوں کو اپنی فصل کی کٹائی کے بعد شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ مشروم ایک انتہائی نازک سبزی ہے جو جلد خراب ہو جاتی ہے، اس لیے مناسب ٹرانسپورٹیشن اور کولڈ اسٹوریج کے بغیر اس کی طویل مدتی تجارت ناممکن ہو جاتی ہے۔
حکومت اور متعلقہ زرعی اداروں کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی تربیت بھی دیں تاکہ وہ جدید ترین طریقوں سے پیداوار میں مزید اضافہ کر سکیں۔ اگر یہ بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کر لیے جائیں اور سپلائی چین کو مضبوط بنایا جائے تو نہ صرف ملکی سطح پر مشروم کی کھپت میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی بھارتی مشروم کی برآمدات کو فروغ مل سکتا ہے۔ بہار اور دیگر ریاستوں کے کسانوں میں اس حوالے سے پایا جانے والا جوش و خروش اس بات کا غماز ہے کہ اگر درست سمت میں پالیسیاں بنائی جائیں تو یہ شعبہ ملک کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔