Business
برطانوی پنیر کا زوال اور صنعتی سیاست - نیکسورا نیوز
برطانیہ میں علاقائی پنیر کی پیداوار میں کمی کا رجحان صنعتی زراعت اور کارپوریٹ طاقت کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ نئی کتاب 'دی گریٹ فلیٹننگ' کا یہ باب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح روایتی طریقے کارپوریٹ مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔
برطانیہ میں علاقائی پنیر کی صنعت کا زوال دراصل اس وسیع تر معاشی عمل کی علامت ہے جسے جدید دور میں طاقت کی مرکزیت اور وسائل پر قبضے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب 'دی گریٹ فلیٹننگ: انکلوزر، ایکسٹریکشن اینڈ دی نیو ایج آف کنسنٹریٹڈ پاور' کے تیسرے باب میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح روایتی اور مقامی پیداواری نظام کو صنعتی ترجیحات کے تحت پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ خاص طور پر اس بات کا احاطہ کرتا ہے کہ کس طرح چند بڑی کارپوریٹ کمپنیاں فوڈ انڈسٹری پر مکمل غلبہ حاصل کرتی جا رہی ہیں، جس سے روایتی کسانوں اور پنیر بنانے والے چھوٹے کاریگروں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
تاریخی طور پر برطانوی ثقافت اور دیہی معیشت میں علاقائی پنیر کی تیاری کو ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، جہاں ہر علاقے کا اپنا ایک منفرد ذائقہ اور مخصوص طریقہ کار ہوتا تھا۔ تاہم، جدید دور کے معاشی دباؤ، سخت ضابطہ کار اور بڑی کارپوریٹ منڈیوں کے پھیلاؤ نے اس صدیوں پرانے ورثے کو شدید متاثر کیا ہے۔ کتاب کے مطابق، یہ صرف خوراک کے معیار کا زوال نہیں ہے بلکہ یہ اس سیاسی اور معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مقامی وسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے عام کسانوں کو ان کے روایتی ذرائع معاش سے محروم کیا جا رہا ہے۔
اس عمل کو 'کمنز کا خاتمہ' بھی کہا جا سکتا ہے جہاں مشترکہ وسائل پر سے عام لوگوں کا حق چھیق کر چند طاقتور اداروں کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے۔ صنعتی پنیر کی پیداوار نے جہاں ایک طرف سستے اور یکساں مصنوعات مارکیٹ میں متعارف کروائے ہیں، وہیں دوسری طرف اس نے زرعی تنوع اور مقامی ثقافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو آنے والے وقتوں میں نہ صرف علاقائی کھانوں کی روایات ختم ہو جائیں گی بلکہ فوڈ انڈسٹری پر چند ہی کمپنیوں کا مکمل اجارہ قائم ہو جائے گا جو کہ طویل مدت میں صارفین اور چھوٹے کاروبار دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔