Pakistan
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان: نئے صوبوں کا قیام عوامی امنگوں کے تابع ہو
ترجمہ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی بھی فیصلہ زمینی حقائق اور عوام کی حقیقی امنگوں کی عکاسی کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی استحکام اور آئینی تقاضے اس عمل میں سب سے اہم ہیں۔
راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کسی بھی فیصلے کو لازمی طور پر عوام کی امنگوں اور زمینی حقائق کی عکاسی کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامی امور کو بہتر بنانے اور پبلک سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانے کے لیے اس قسم کے فیصلے انتہائی سنجیدگی اور اتفاق رائے کے متقاضی ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملات میں سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد اور اجتماعی بہتری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ملک بھر میں وقتاً فوقتاً نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث ہوتی رہتی ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں اور حلقے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس مؤقف کے بعد اس بحث کو ایک نئی جہت مل گئی ہے جہاں انتظامی بہتری اور عوامی مطالبات کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم یا نئے صوبے بنانا ایک انتہائی حساس آئینی اور انتظامی عمل ہے جس کے لیے پارلیمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گہری مشاورت ناگزیر ہے۔ اس عمل میں اگر عوام کی امنگوں کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے انتظامی بہتری کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ آخر میں، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور سیاسی قیادت مل بیٹھ کر ایسے فیصلوں پر غور کریں گے جو قومی یکجہتی کو مضبوط کریں اور ملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی میں حقیقی معنوں میں معاون ثابت ہوں۔