LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں پتنگ بازی پر اسرائیلی دھمکی اور بچوں کا خوف

News Image
اسرائیل کی جانب سے پتنگ بازی کو جنگی اقدام قرار دینے کی دھمکی کے بعد غزہ کے معصوم بچوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ دس سالہ پتنگ ساز بچے کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی بنائی ہوئی پتنگیں فضا میں اڑانے سے ڈرتا ہے۔
غزہ کے پٹی کے علاقے میں محصور فلسطینی بچوں کی زندگی پہلے ہی متعدد مشکلات اور خدشات کا شکار ہے، تاہم اب اس میں ایک اور خوف کا اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام کی جانب سے دی جانے والی ایک متنازع دھمکی کے بعد بچوں کی خوشیوں کا ایک اور ذریعہ بھی چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ وہ غزہ سے اڑائی جانے والی پتنگوں کو بھی جنگی اقدام کے طور پر دیکھے گا، جس کے بعد سے مقامی بچوں میں گہرا خوف پھیل گیا ہے۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دس سالہ ایک فلسطینی لڑکا ہے، جو اپنے ہاتھوں سے خوبصورت پتنگیں بناتا ہے۔ اس کمسن بچے کا کہنا ہے کہ پتنگ سازی اس کا واحد مشغلہ اور خوشی کا ذریعہ تھی، لیکن اب اسرائیلی دھمکیوں کے بعد اسے اپنی جان اور حفاظت کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ وہ اپنے گھر کی چھت پر یا کھلے میدانوں میں جا کر اپنی بنائی ہوئی رنگ برنگی پتنگ فضا میں بلند کرنے سے بھی اب ڈرتا محسوس کرتا ہے۔ بچوں کی دنیا میں پتنگ اڑانا آزادی اور معصوم خوشیوں کی علامت ہوتا ہے، لیکن غزہ کے بچوں کے لیے یہ بھی ایک خوفناک تجربہ بنا دیا گیا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیل کود اور عام سرگرمیوں پر اس قسم کی پابندیاں اور دھمکیوں سے پہلے سے ہی تنازع اور محاصرے کی چکی میں پسنے والے بچوں کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ غزہ کے باسیوں کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ معصوم بچوں کو جنگی نفسیات اور خوف کے ماحول سے نکالا جا سکے اور انہیں ان کا بنیادی حق سکون اور کھیل کود فراہم کیا جا سکے۔