LIVE
Loading Breaking News...

موزمبیق میں تشدد کا بحران اور بے گھر افراد کی صورتحال

News Image
شمالی موزمبیق میں جاری پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پچھلے سال ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس نئے بحران نے پہلے سے موجود تیرہ لاکھ بے گھر افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شمالی موزمبیق میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال اور پرتشدد واقعات کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ موزمبیق کے اس خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو اپنے آبائی علاقوں سے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق صرف گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یہ تازہ لہر اس بڑے انسانی بحران میں ایک اور اضافہ ہے جو پہلے سے ہی اس خطے میں جاری تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق شمالی موزمبیق میں پہلے ہی سے تقریبا تیرہ لاکھ افراد تنازعات اور تشدد کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان تمام متاثرہ افراد کو خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بیشتر خاندان عارضی کیمپوں یا رشتہ داروں کے پاس انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں سردی اور موسمی تغیرات نے ان کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس خطے میں فوری طور پر امن و امان کی بحالی اور انسانی امداد کی ترسیل کو تیز نہ کیا گیا تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو بھی امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر مالی اور عملی امداد فراہم کرے تاکہ لاکھوں بے گھر افراد کو ریلیف دیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔