LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں طالب علم کی ہلاکت اور جسمانی سزا کے خلاف نئی بحث

News Image
بھارت میں ایک طالب علم کی استاد کے مبینہ تشدد اور تھپڑ لگنے سے ہلاکت کے بعد تعلیمی اداروں میں بچوں کو دی جانے والی جسمانی سزاؤں کے خلاف بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں بچوں کے تحفظ اور قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارت میں ایک طالب علم کی المناک موت نے ایک بار پھر ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو دی جانے والی جسمانی سزاؤں کے سنگین مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب قانوناً اسکولوں میں بچوں پر تشدد یا مار پیٹ پر پابندی عائد ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ ماہرین تعلیم اور والدین کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پابندی کے باجود اساتذہ کی طرف سے بچوں پر تشدد کے واقعات کیوں روکے نہیں جا سکے ہیں۔ اس تازه واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ اور سماجی حلقوں میں یہ سوالات شدت سے پوچھے جا رہے ہیں کہ دہائیوں گزرنے کے باوجود اسکولوں میں سختی اور تذلیل کا کلچر کیوں ختم نہیں ہو سکا۔ بچوں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سے اداروں میں اب بھی اساتذہ کی جانب سے نظم و ضبط کے نام پر طلبہ کو جسمانی یا ذہنی اذیت دی جاتی ہے، جو بچوں کی نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونا ایک بڑا المیہ بن چکا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد ملک بھر میں طلبہ کے والدین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ حکومت اور تعلیمی بورڈز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے اساتذہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے جو بچوں کی جان سے کھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کی تربیت کا ایسا نظام بنایا جانا چاہیے جہاں وہ بچوں کو سمجھانے کے لیے تشدد کی بجائے مثبت تعلیمی اور نفسیاتی طریقے استعمال کریں۔ حکومتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائیں۔ اگر اس سنگین مسئلے پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے رہیں گے، جس سے معاشرے کا تعلیمی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوگا۔