World
آئی سی سی سربراہ کی جاپان سے اپیل، امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے پر زور
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سربراہ نے جاپان سے اپیل کی ہے کہ وہ عدالت کے خلاف امریکی دباؤ کو مسترد کرے اور اس کا بھرپور مقابلہ کرے۔ واشنگٹن کی جانب سے حالیہ پابندیوں کے بعد عالمی عدالت نے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے سربراہ نے جاپانی حکومت سے باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالت کے خلاف واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی عدالت کو عالمی سطح پر مختلف سیاسی و سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے اور بعض طاقتور ممالک کی جانب سے اس کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جاپان، جو کہ آئی سی سی کا ایک اہم اور بڑا مالی معاون ملک ہے، سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عالمی قوانین اور انصاف کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ واشنگٹن انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف اپنی مہم کو اس وقت مزید تیز کر دیا جب اس نے عدالت کے صدر اور ایک سینئر ٹرائل وکیل پر براہ راست پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی حکومت کے اس اقدام کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ ماہرین کے نزدیک یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد عدالت کے کام میں رکاوٹ ڈالنا اور ایسے مقدمات کی تحقیقات کو روکنا ہے جو مبینہ جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر، آئی سی سی کی قیادت نے دنیا بھر کے انصاف پسند ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی عدالت کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ عالمی برادری کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو کسی بھی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنا کام جاری رکھنا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں مظلوموں کو انصاف مل سکے۔