Politics
اسحاق ڈار کا آزاد کشمیر میں گورننس اور آئینی امور پر اتفاق رائے کا عزم
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وفاق اور آزاد جموں و کشمیر کی نئی حکومت اہم انتظامی اور آئینی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے یہ بات لندن میں برطانوی پارلیمنٹرینز کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وفاق اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی آنے والی حکومت خطے میں اہم گورننس اور آئینی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ بات انہوں نے لندن میں پاکستان ہاؤس میں پاکستانی نژاد برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ اسحاق ڈار ان دنوں برطانیہ کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹرینز کے اس وفد نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پر نائب وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کی سابقہ کارکردگی، معاشی ترقی اور عوامی فلاحی کاموں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں نئی حکومت بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی۔ اس سے قبل آزاد کشمیر میں عام انتخابات سے قبل خطے میں کشیدگی دیکھی گئی تھی جہاں انتظامیہ اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مطالبات پر اختلافات رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم نے پاک برطانیہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے اہم کردار اور جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ان کی مستقل حمایت کو بھی سراہا۔ برطانوی قانون سازوں نے امورِ عامہ اور باہمی دلچسپی کے دیگر مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹرینز نے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے کردار کو بین الاقوامی سطح پر سراہے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تمام فریقین کے مابین بات چیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی نوعیت کے معاہدے اور باہمی تعاون خطے کے امن کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔