LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز کی آمدنی، آئی آر جی سی اور عمان میں معاہدہ طے

News Image
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے عمان کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں سمندری تجارت اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
تہران: ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منصفانہ تقسیم کے سلسلے میں ایک نیا اور اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان سمندری امور، اقتصادی تعاون اور باہمی تجارت کے میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی توانائی کی رسد کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے اس اہم سمندری گزرگاہ کے مالیاتی اور انتظامی امور میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس خطے میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی فوائد کا حصول تمام متعلقہ فریقین کے لیے ترجیح رہا ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان اس حالیہ اشتراک عمل سے نہ صرف دونوں ممالک کے معاشی مفادات کا تحفظ ہوگا بلکہ علاقائی سطح پر بھی تجارتی سرگرمیوں میں نیا تحرک پیدا ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ آئی آر جی سی کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ سے دونوں ممالک کے مابین بحری تجارت کے دائرہ کار میں وسعت آئے گی اور مالیاتی وسائل کو بہتر طریقے سے بروئے کار لایا جا سکے گا۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر اس معاہدے کو گہری نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی توانائی کی منڈی کا ایک انتہائی حساس نکتہ ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان اس نوعیت کے دوطرفہ اقدامات خطے کے ممالک کے باہمی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں حکومتیں اس معاہدے کے عملی خدوخال اور ضابطہ کار کو حتمی شکل دیں گی، جس سے باہمی تعاون کی راہیں مزید روشن ہوں گی اور خطے میں پائیدار معاشی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔