LIVE
Loading Breaking News...

روساتوم کا مصر کے الضبعہ ایٹمی پلانٹ میں ڈی سیلینیشن پلانٹ بنانے کا اعلان

News Image
روسی سرکاری ایٹمی کارپوریشن روساتوم کے سی ای او الیکسی لکھاشیف نے کہا ہے کہ مصر میں الضبعہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب بڑے پیمانے پر سمندری پانی کو شیریں کرنے والا پلانٹ لگایا جا सकता ہے۔ اس منصوبے سے مقامی سطح پر پانی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
روسی سرکاری ایٹمی کارپوریشن روساتوم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسی لکھاشیف نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ مصر میں زیر تعمیر الضبعہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ساتھ ایک بڑے پیمانے پر سمندری پانی کو شیریں کرنے والا پلانٹ (ڈی سیلینیشن پلانٹ) تعمیر کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔ اس بات کا اعلان انہوں نے روس کے شہر نزنی نووگوروڈ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا۔ ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ مقامی خطے میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ الضبعہ نیوکلیئر پاور پلانٹ مصر کا پہلا ایٹمی بجلی گھر ہے جسے روس کی تکنیکی اور مالی معاونت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا شمار خطے کے سب سے بڑے توانائی کے منصوبوں میں ہوتا ہے۔ اب اس میں سمندری پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت کا اضافہ کرنے سے نہ صرف پاور پلانٹ کی اپنی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ قریبی آبادیوں کو بھی صاف پینے کا پانی میسر آئے گا جو کہ مصر جیسے خشک سالی کے خطرات سے دوچار ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ روساتوم کے حکام کے مطابق اس مجوزہ پلانٹ کی صلاحیت بہت زیادہ ہوگی جو جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بحیرہ روم کے پانی کو قابل استعمال بنائے گی۔ ایٹمی توانائی کے پلانٹس کے ساتھ اس طرح کے ڈی سیلینیشن یونٹس کا قیام دنیا بھر میں ایک مستند طریقہ کار سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے توانائی کی بلا تعطل فراہمی کے ذریعے پانی صاف کرنے کے عمل کو موثر بنایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس ممکنہ تعاون سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ مصر اور روس کے تعلقات میں ایٹمی شعبے میں تعاون کو ہمیشہ کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ الضبعہ پلانٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور اب اس نئے پانی کو شیریں کرنے والے منصوبے کے شامل ہونے سے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اس منصوبے کے حتمی خدوخاش، لاگت اور تعمیراتی ٹائم لائن کے حوالے سے باضابطہ معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے۔