Technology
ناروے میں اسمارٹ گلاسز کے استعمال اور فیشل ریکگنیشن پر پابندی کی تیاری
ناروے کی حکومت نے عوامی مقامات پر اسمارٹ چشموں اور اس سے ملتی جلتی دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کو باقاعدہ ضابطے میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ حکام اس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ پبلک مقامات پر چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے فیچرز پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
ناروے کی حکومت نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہونے والے اسمارٹ چشموں اور اس طرح کی دیگر پہننے کے قابل (wearable) ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کے ضابطہ کار کو سخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کی ذاتی رازداری یعنی پرائیویسی کا تحفظ کرنا اور عوامی مقامات پر اس کے ممکنہ منفی اثرات کو روکنا ہے۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا عوامی مقامات پر ایسی ٹیکنالوجیز کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جائے جو بلاتعطل چہرہ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں اسمارٹ چشموں میں ایسی جدید کیمرہ اور ریکارڈنگ خصوصیات متعارف کروائی گئی ہیں جو پوشیدہ انداز میں اردگرد کے مناظر، ویڈیوز اور لوگوں کی تصاویر ریکارڈ کرنے کی سکت رکھتی ہیں۔ ان ڈیوائسز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر میں سول سوسائٹی اور پرائیویسی کے اداروں کے لیے شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ ناروے کے متعلقہ اداروں کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی سخت قانون یا ضابطے کے کھلا چھوڑ دیا گیا، تو یہ عام شہریوں کی نجی زندگی میں براہ راست مداخلت کا باعث بنے گی اور لوگ عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، مجوزہ ضوابط کے تحت نہ صرف اسمارٹ چشموں کے ڈیزائن اور ریکارڈنگ کے طریقہ کار کو جانچا جائے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی فرد کی مرضی اور اجازت کے بغیر اس کا ڈیٹا اکٹھا نہ کیا جا سکے۔ ناروے یورپی خطے میں ان چند ممالک میں شامل ہے جو ڈیجیٹل حقوق اور پرائیویسی کے قوانین کو لے کر انتہائی حساس اور سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ اس نئے مجوزہ قانون کے نفاذ سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنی مصنوعات میں مقامی قوانین کی پاسداری کریں۔
اس فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ دیگر یورپی ممالک بھی اسمارٹ ڈیوائسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے سدباب کے لیے نئے قوانین پر غور کر رہے ہیں۔ ناروے کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتیں اب مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل آلات کے دور میں انسانی حقوق اور پرائیویسی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔