Technology
جدید اینڈ پوائنٹ اور جدید ایپلیکیشنز میں فرق، تکنیکی جائزہ
جدید اینڈ پوائنٹ پروجیکٹس کے نفاذ سے مراد یہ نہیں ہے کہ تمام کاروباری ایپلیکیشنز بھی مکمل طور پر جدید ہو چکی ہیں۔ تنظیموں کو اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مؤثر بنانے کے لیے ہارڈویئر کے ساتھ سافٹ ویئر کی بہتری پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
بہت سے اینڈ پوائنٹ پراجیکٹس میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب نیا ماحول تیار دکھائی دیتا ہے۔ اس مرحلے پر ڈیوائسز کو رجسٹر کر لیا جاتا ہے، پالیسیاں نافذ کر دی جاتی ہیں اور فزیکل اینڈ پوائنٹس کے ساتھ ساتھ ورچوئل ڈیسک ٹاپس جن میں کلاؤڈ پی سی بھی شامل ہیں، کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ بظاہر سب کچھ مکمل محسوس ہوتا ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اب نظام مکمل طور پر جدید ہو چکا ہے، ایک بڑی غلط فہمی ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف جدید ہارڈویئر یا اینڈ پوائنٹ سسٹمز کا حصول اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ آپ کی تمام ایپلیکیشنز بھی اتنی ہی جدید اور کارآمد ہو چکی ہیں۔
تنظیمیں اکثر یہ سوچتی ہیں کہ کلاؤڈ پر مبنی ماحول یا نئے اینڈ پوائنٹ مینجمنٹ ٹولز اپنانے سے ان کے تمام پرانے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایپلیکیشنز کا جدید تقاضوں کے مطابق نہ ڈھلنا ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرتا ہے۔ پرانی ایپلیکیشنز جب جدید کلاؤڈ سسٹمز یا ورچوئل ڈیسک ٹاپس پر چلائی جاتی ہیں تو وہ اکثر اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کارکردگی نہیں دکھا پاتیں۔ اس سے نہ صرف صارفین کا تجربہ متاثر ہوتا ہے بلکہ سیکیورٹی اور وسائل کے ضیاع کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کاروباری اداروں کو اپنے آئی ٹی انفراسٹرکچر کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ صرف اینڈ پوائنٹ ماڈرنائزیشن پر اکتفا کرنے کے بجائے ایپلیکیشنز کو بھی اپ ڈیٹ کرنا یا انہیں نئے سرے سے ڈیزائن کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کلاؤڈ کے ماحول کے مطابق ڈھلنے والی ایپلیکیشنز ہی طویل مدت میں بہتر کارکردگی اور سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہیں۔ بصورت دیگر، جدید ترین اینڈ پوائنٹس پر پرانے سافٹ ویئر کا استعمال صرف ایک سطحی تبدیلی بن کر رہ جاتا ہے جو کہ کاروباری اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔