LIVE
Loading Breaking News...

سیم ألٹ مین کا بیان: اے آئی کا اصل انقلاب ابھی نہیں آیا

News Image
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹ مین نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ ابھی تک توقع کے مطابق اپنے اصل انقلابی لمحات سے دور ہے۔ دنیا بھر میں جی پی یو اور جدید ہارڈویئر کی شدید طلب کے باوجود تاحال آئی فون جیسا بڑا صارف انقلاب نہیں آ سکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم ألٹ مین نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں جس بڑے اور انقلابی معاشی و سماجی اثر کی توقع کی جا رہی تھی، وہ تاحال مکمل طور پر ظاہر نہیں ہو سکا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا یہ موجودہ بوم توقع سے کچھ تاخیر کا شکار ہے اور ہم نے ابھی تک وہ لمحہ نہیں دیکھا جسے ڈیجیٹل تاریخ میں آئی فون کے اجراء کے برابر قرار دیا جا سکے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس بیان پر بحث شروع ہو گئی ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں جنریٹو اے آئی نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر کی بڑی لیبارٹریز اور فرنٹ لائن ٹیکنالوجی ادارے ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ چپ ساز ادارے انوڈیا اور ٹی ایس ایم سی جیسی کمپنیوں کی طرف سے بھی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ آنے والے برسوں میں طاقتور جی پی یوز کی طلب اسی طرح بلند رہے گی کیونکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے غیر معمولی کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت پڑتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اوپن اے آئی کو بھی اپنے بعض منصوبوں، جیسے کہ ویڈیو تخلیق کرنے والے ماڈل سورا، کے حوالے سے وسائل کی تقسیم اور کمپیوٹنگ کے حد سے زیادہ استعمال جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت طویل المدتی ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور اگرچہ ابتدائی جوش و خروش میں کچھ تعطل آ سکتا ہے، لیکن مستقبل میں مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر شعبے کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔ سیم ألٹ مین کے اس بیان کو حقیقت پسندانہ قرار دیا جا رہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کو روزمرہ عام صارفین کی زندگی کا ناگزیر حصہ بننے کے لیے ابھی کچھ اور وقت اور مزید تکنیکی بہتری کی ضرورت ہے۔