LIVE
Loading Breaking News...

AI TRiSM مارکیٹ کا حجم 2031 تک 11.61 ارب ڈالر ہو جائے گا

News Image
مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے اعتماد، رسک اور سیکیورٹی مینجمنٹ یعنی AI TRiSM کی مارکیٹ تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ سال 2026 میں 3.09 ارب ڈالر مالیت کی یہ مارکیٹ 30.3 فیصد کی سالانہ شرح سود کے ساتھ 2031 تک 11.61 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
نئی دہلی اور عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے سیکیورٹی اور رسک مینجمنٹ کے شعبے میں بھی حیرت انگیز ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اے آئی ٹرسٹ، رسک اور سیکیورٹی مینجمنٹ یعنی AI TRiSM کی عالمی مارکیٹ میں شاندار اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ مارکیٹ رواں سال 2026 میں تقریباً 3.09 ارب ڈالر مالیت کی حامل ہے، جو آئندہ چند برسوں کے دوران تیز رفتار ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی سال 2031 تک 11.61 ارب ڈالر کی بلندی کو چھو لے گی۔ رپورٹ کے تجزیے کے مطابق اس پوری مدت کے دوران AI TRiSM کی مارکیٹ میں 30.3 فیصد کی نمایاں جامع سالانہ شرح سود (CAGR) دیکھی جائے گی۔ اس بے پناہ ترقی کی بنیادی وجہ کاروباری اداروں اور حکومتوں کا مصنوعی ذہانت کے سسٹمز پر بڑھتا ہوا انحصار اور ان کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو روزمرہ کے امور اور کارپوریٹ سیکٹر میں شامل کیا جا رہا ہے، اس کے غلط استعمال، سیکیورٹی کی خامیوں اور ڈیٹا کی رازداری کے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں، جن کے تدارک کے لیے AI TRiSM سلوشنز ناگزیر بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں تمام بڑے ادارے اور کمپنیاں اپنے اے آئی سسٹمز کی شفافیت، فیئر نیس اور اعتبار کو یقینی بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔ اس رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح مختلف صنعتی شعبے مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ٹولز اور فریم ورک اپنا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف کاروباری خطرات کم ہوں گے بلکہ صارفین کا بھی اے آئی پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔