Politics
اسحاق ڈار کا کامن ویلتھ کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کامن ویلتھ کی سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں تنظیم کے ساتھ پاکستان کے مضبوط اور دیرپا عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ملاقات کے دوران علاقائی امن، سلامتی اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کامن ویلتھ کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں تنظیم کے مقاصد اور اہداف کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا بھرپور اعادہ کیا ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کامن ویلتھ کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون، اقتصادی ترقی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عالمی فورمز پر ہمیشہ سے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کا حامی رہا ہے اور کامن ویلتھ کے پلیٹ فارم سے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم نے پاکستان کے اہم سفارتی اقدامات اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں بالخصوص مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں ثالثی کے کردار سے بھی آگاہ کیا۔ برطانوی قانون سازوں اور عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی اس قیادت اور سفارتی کاوشوں کو سراہا ہے جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
اس کے علاوہ، اسحاق ڈار نے بین الاقوامی سمقانی تنظیم (IMO) کے سربراہ سے بھی ملاقات کی جس میں صومالی بحری قذاقوں کے قبضے میں پھنسے ہوئے پاکستانی ملاحوں کی فوری رہائی کے لیے فوری مداخلت کی پرزور اپیل کی گئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستانی شہریوں اور ملاحوں کی حفاظت اور ان کی بحفاظت وطن واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا ہے اور دنیا نے پاکستان کے امن دوست کردار کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت پاکستان تمام بیرونی اور داخلی چیلنجز کے باوجود عالمی امن اور اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور کامن ویلتھ جیسے اداروں کے ساتھ اشتراک عمل اس سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔