LIVE
Loading Breaking News...

پشاور ہائیکورٹ کا نویں جماعت کے طالب علم کو صفر نمبر دینے پر سخت نوٹس

News Image
پشاور ہائیکورٹ نے نویں جماعت کے ایک طالب علم کو بائیولوجی کے پرچے میں صفر نمبر دینے کے معاملے پر بورڈ کے اعلیٰ حکام کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے بورڈ سے طالب علم کی اصل جوابی کاپی بھی طلب کر لی ہے تاکہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔
پشاور ہائیکورٹ نے نویں جماعت کے ایک طالب علم کو بائیولوجی کے پرچے میں صفر نمبر دینے کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک طالب علم اور اس کے والدین نے پرچے میں صفر نمبر ملنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، جس پر معزز عدالت نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔ عدالتی احکامات کے مطابق، حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں اور اس پوری صورتحال کی وضاحت کریں۔ عدالت نے متعلقہ تعلیمی بورڈ سے یہ بھی طلب کیا ہے کہ وہ متاثرہ طالب علم کی اصل جوابی کاپی (آنسر شیٹ) عدالت میں پیش کرے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا सके کہ آیا طالب علم کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی ہوئی ہے یا یہ مارکنگ کا کوئی تکنیکی مسئلہ تھا۔ ماہرین اور والدین کی جانب سے اس قسم کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس عدالتی اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے بورڈ کے نظامِ امتحان میں مزید شفافیت آئے گی۔ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے اس کیس کی مزید سماعت آنے والے دنوں میں متوقع ہے جہاں دونوں فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز سے امارتی بورڈز کو اپنی جانچ پڑتال کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ کسی بھی طالبعلم کا مستقبل خراب نہ ہو۔