World
سی آئی اے سربراہ کا دورہ ماسکو: ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے ماسکو کے دورے کو ایک نیم معمول کا دورہ قرار دیا ہے۔ اس خفیہ اور اچانک دورے کے بعد عالمی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر اور نامور رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر کے ماسکو کے اچانک دورے کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ کا یہ دورہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ اسے ایک 'نیم معمول' کی سفارتی و انٹیلی جنس کارروائی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس دورے نے عالمی سطح پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی اور میڈیا میں اس پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے سمیت دنیا کے کئی اہم اخبارات اور خبر رساں اداروں نے اس خفیہ دورے کو نمایاں جگہ دی تھی۔ دوسری جانب کریملن کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ماسکو میں امریکی فوجی طیارے کے اترنے اور اس دورے کے مقاصد کے بارے میں فی الحال ان کے پاس کوئی باضابطہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ اس سے قبل وال اسٹریٹ جنرل اور واشنگٹن پوسٹ جیسے موقر امریکی اخبارات نے بھی اس دورے کی پراسرار نوعیت پر روشنی ڈالی تھی اور اسے موجودہ عالمی جیو پولیٹیکل حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے دورے اگرچہ انٹیلی جنس حلقوں میں ہوتے رہتے ہیں تاہم موجودہ کشیدہ حالات میں اس کی ٹائمنگ نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اب یہ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا واشنگتن اور ماسکو کے درمیان پردے کے پیچھے کسی قسم کے نئے رابطے استوار ہو رہے ہیں یا پھر یہ محض انٹیلی جنس تبادلے کا ایک روایتی سلسلہ تھا۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید اثرات سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔