World
ایران میں ڈالر کی قیمت دو ملین ریال، معاشی بحران کی تفصیلات
ایران میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ کر بیس لاکھ ریال تک جا پہنچی ہے جس سے ملک میں معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس تاریخی گراوٹ کے بعد ملکی معیشت کو شدید ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایران میں معاشی بحران نے اس وقت ایک نیا اور خطرناک موڑ لے لیا جب ایک امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ کر دو ملین یعنی بیس لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ گئی۔ اس تاریخی گراوٹ نے ایرانی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عام شہریوں کی زندگی اجو بن کر رہ گئی ہے۔ ملک میں جاری شدید مہنگائی اور کرنسی کی بے قدری نے لوگوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ اشیائے خوردونوش اور بنیادی ضرورت کی چیزیں اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں بین الاقوامی پابندیاں اور ملک کی اندرونی معاشی بدانتظامی شامل ہیں۔ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے لیے تجارتی راہیں مسدود ہوتی جا رہی ہیں، اور برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی اقتصادی پابندیوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جنہیں بعض حلقوں میں 'معاشی ڈی ڈے' کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے مالیاتی اور تجارتی تعلقات کو دنیا بھر سے کاٹنا ہے۔ چین جیسے ممالک نے ان یکطرفہ امریکی پابندیوں پر شدید تنقید کی ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود تہران حکومت کو عالمی مالیاتی نظام سے باہر رکھنے کے لیے کوششیں تیز کی جا چکی ہیں۔ ایران میں اب صورتحال یہ ہے کہ شہریوں کو سونے کی خریداری، کرپٹو کرنسی اور غیر ملکی کرنسی میں پناہ لینی پڑ رہی ہے تاکہ وہ اپنی جمع پੂੰجی کو مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کے اثرات سے بچا سکیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی فوری اور موثر حکمت عملی نہ اپنائی گئی، تو آنے والے دنوں میں ایرانی عوام کو مزید سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے طویل المدتی اور مشکل ترین اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔