World
امریکہ کی دہشت گردی کی بلیک لسٹ: شام کے اخراج کے بعد موجودہ ممالک
امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرنے والے ممالک کی بلیک لسٹ سے شام کا نام نکال دیا گیا ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد اب دنیا کے صرف تین ممالک کیوبا، ایران اور شمالی کوریا اس فہرست میں شامل ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے خارجہ پالیسی میں ایک اہم اور ڈرامائی قدم اٹھاتے ہوئے شام کا نام دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست (State Sponsors of Terrorism) سے خارج کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد اب اس سیاہ فہرست میں صرف تین ممالک باقی رہ گئے ہیں جن میں کیوبا، ایران اور شمالی کوریا کے نام شامل ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی تجزیہ کار اس فیصلے کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکہ کی نئی سفارتی ترجیحات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل شام کئی دہائیوں تک اس فہرست کا حصہ رہا تھا جس کی وجہ سے اسے سخت معاشی پابندیوں اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ فہرست میں اب صرف تین ممالک کے رہ جانے کے بعد، عالمی سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا امریکہ ان باقی ماندہ ممالک کے خلاف اپنی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی لائے گا یا نہیں۔ دوسری جانب، اس فہرست میں شامل باقی ممالک یعنی ایران، کیوبا اور شمالی کوریا طویل عرصے سے سخت امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ انممالک پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ عالمی دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے ہیں یا اپنی سرزمین پر ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ بلیک لسٹ صرف سفارتی دباؤ کا ایک ذریعہ نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے متعلقہ ممالک کو عالمی معیشت اور مالیاتی اداروں سے کاٹ کر رکھا جاتا ہے۔ شام کے اس فہرست سے نکلنے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر اس کے کیا اسٹریٹجک اثرات مرتب ہوتے ہیں، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کی مزید تفصیلات اور شرائط بھی جلد سامنے آنے کا امکان ہے۔