World
نیدرلینڈز حکومت کے خلاف ویسٹ بینک ٹریڈ بین پر کیس
اسرائیلی پروڈکٹ سینٹر نے نیدرلینڈز کی حکومت کے خلاف مغربی کنارے سے متعلق تجارتی پابندی پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ گروپ کا موقف ہے کہ انہیں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا۔
نیدرلینڈز کی حکومت کے خلاف ایک عیسائی گروپ نے مغربی کنارے یعنی ویسٹ بینک کی تجارت پر عائد کی جانے والی پابندی کے معاملے پر عدالت کا رخ کر لیا ہے۔ اس قانونی کارروائی کا آغاز کرنے والے ادارے 'اسرائیلی پروڈکٹ سینٹر' کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی نئی تجارتی پابندیوں کے نفاذ میں انہیں اپنے موجودہ اسٹاک کو فروخت کرنے کے لیے مناسب اور کافی وقت فراہم نہیں کیا گیا۔ اس اچانک فیصلے کی وجہ سے ان کے کاروباری امور شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اسرائیلی پروڈکٹ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ وہ تمام کاروباری ادارے بھی مشکلات میں گھر جاتے ہیں جو قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے امور انجام دے رہے ہیں۔ گروپ کے نمائندگان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں میں اچانک تبدیلیوں سے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اسی بنیاد پر انہوں نے نیدرلینڈز کی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس معاملے پر عدالتی سطح پر نظرثانی کی جا سکے۔
دوسری جانب، ڈچ حکام اور متعلقہ سرکاری اداروں کا اس پورے تنازع پر کہنا ہے کہ ان کی پالیسیاں بین الاقوامی قوانین اور خطے کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر مرتب کی جا رہی ہیں۔ حکومت اپنے فیصلوں کو درست قرار دے رہی ہے جبکہ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی تجارت اور ویسٹ بینک سے متعلق پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران دونوں اطراف سے دلائل پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔