LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی انروا کے خلاف کارروائیاں اور مغربی کنارے کا الحاق

News Image
تجزیہ کاروں کے مطابق انروا کے مرکز پر چھاپہ پناہ گزینوں کے حقوق کو مٹانے اور مغربی کنارے کے الحاق کی اسرائیلی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے ادار برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) کے خلاف اپنی کارروائیوں اور مہم میں مزید وسعت دے دی ہے۔ مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تمام تر حکمت عملی کا اصل ہدف فلسطینی پناہ گزینوں کے بنیادی حقوق کو ختم کرنا اور مقبوضہ مغربی کنارے کا باضابطہ الحاق کرنا ہے۔ انروا کے مراکز پر حالیہ چھاپے اور پابندیاں اسی سوچے سمجھے منصوبے کی کڑی ہیں جس کے تحت فلسطینیوں کے وجود اور ان کی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر ان اقدامات کو نہ روکا گیا تو اس کے خطے پر انتہائی خطرناک اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب فلسطینی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیل کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انروا وہ واحد ادارہ ہے جو لاکھوں فلسطینی مہاجرین کو تعلیم، صحت اور بنیادی امداد فراہم کرتا ہے، اور اس ادارے کو کمزور کرنا دراصل پناہ گزینوں کے مسئلے کو یکسر ختم کرنے کی سازش ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے لیے یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ دو ریاستی حل کے امکانات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اسرائیل کو اس طرح کے اقدامات سے روکنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کریں، بصورت دیگر خطے کا امن ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگ جائے گا۔