Pakistan
پاکستان جنگی خطرے کی فہرست سے خارج، حکومت کا خیرمقدم
جوائنٹ وار کمیٹی کی جانب سے پاکستان کو جنگی خطرے کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر بحری امور نے اس اقدام کو ملک کی معیشت اور سمندری تجارت کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) کے اس فیصلے کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت پاکستان کو جنگی خطرے والی سمندری حدود کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو ملک کی معاشی اور تجارتی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر بحری امور اور دیگر حکام نے بھی اس پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے میری ٹائم سیکٹر کے لیے بڑی خوشخبری قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے ساحلی اور سمندری علاقوں کو بین الاقوامی بیمہ کمپنیوں اور خطرے کی تشخیص کرنے والے اداروں کی جانب سے اعلیٰ خطرے والے زون میں شمار کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے جہاز رانی اور سمندری تجارت کو اضافی اخراجات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب لائیڈز اور جوائنٹ وار کمیٹی کی جانب سے اس فہرست سے نام نکالے جانے کے بعد پاکستان کے سمندری راستے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر محفوظ قرار دیے گئے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ملک میں شپنگ انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بین الاقوامی جہاز رانی کی کمپنیاں پاکستان کی طرف راغب ہوں گی، جس سے ملک میں بیرونی تجارت کے نئے راستے کھلیں گے اور برآمدات و درآمدات کے عمل میں مزید بہتری آئے گی۔ حکومت نے اس کامیابی کو متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے جو پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔