Pakistan
گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ: مارخور اور آئی بکس کے پرمٹس کی نیلامی کا اعلان
گلگت بلتستان میں وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے سال 2026-27 کے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے لیے شکاری پرمٹس کی نیلامی کا اعلان کر دیا ہے۔ مارخور کے پرمٹ کی بنیادی قیمت دو لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ نیلامی 10 ستمبر کو ہوگی۔
گلگت بلتستان کے پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے سال 2026-27 کے جی بی ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت تین استور مارخور، چودہ نیلی بھیڑوں (بلو شیپ) اور ایک سو ہمالیائی آئی بکس کے شکاری پرمٹس کی نیلامی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سرکاری نوٹس کے مطابق، ان پرمٹس میں سب سے زیادہ بنیادی قیمت استور مارخور کی رکھی گئی ہے جو کہ دو لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیلی بھیڑ کے شکار کے پرمٹ کی بیس ریٹ پچیس ہزار ڈالر اور ہمالیائی آئی بکس کے لیے گیارہ ہزار ڈالر طے کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارخور کے برآمدی کوٹے میں سے تین نئے پرمٹس ستمبر میں نیلام کیے جائیں گے، جبکہ کھلی بولی کا یہ عمل 10 ستمبر کو گلگت کے جٹیال فاریسٹ کمپلیکس میں منعقد ہوگا۔
سرکاری نوٹس کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ کا یہ سیزن جی بی ٹرافی ہنٹنگ گائیڈ لائنز 2019 کے تحت 15 اکتوبر سے شروع ہو کر 10 اپریل 2027 تک جاری رہے گا، اور شکار صرف مخصوص کردہ کنزروویشن ایریاز میں ہی کرنے کی اجازت ہوگی۔ شکاری کوٹے کا یہ فیصلہ جنگلی حیات کے ماہرین کی جانب سے ہر سال کیے جانے والے سروے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ذاکر حسین نے بتایا کہ گزشتہ سال پرمٹس کی نیلامی سے ساڑھے تینتیس کروڑ روپے اکٹھے ہوئے تھے جبکہ ہدف ساڑھے پچپن کروڑ روپے کا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیزن 2025-26 کے دوران کئی پرمٹس استعمال نہ ہونے کی وجہ سے بیس کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کی بڑی وجہ امن و امان کی صورتحال اور غیر ملکی شکاریوں کے دورے منسوخ ہونا تھی۔
دوسری جانب، مقامی کاروباری حضرات اور ٹ্যুর آپریٹرز کی جانب سے گزشتہ دو سالوں سے پرمٹس کی قیمتوں میں پے در پے اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے اور بین الاقوامی کلائنٹس حوصلہ شکنی کا شکار ہو رہے ہیں۔ شکار کے آلات فروخت کرنے والے مقامی کاروباری شخص اکራም بیگ کا کہنا ہے کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر قیمتوں میں تین سو فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے جو کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں گلگت بلتستان کی مسابقت کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس سے نہ صرف حکومتی آمدنی بلکہ مقامی کمیونٹیز کے تحفظاتی جذبے کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا یہ پروگرام سب سے پہلے 1990 میں ناگر کی بار ویلی میں مقامی آبادی کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کا تحفظ اور غیر قانونی شکار کی روک تھام ہے۔ اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدنی کا اسی فیصد حصہ براہ راست مقامی کمیونٹی کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ جنگلی حیات کی دیکھ بھال کر سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ انتہائی مشکل اور سخت موسمی حالات میں کیا جانے والا شکار ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والے فنڈز نایاب نسل کے جانوروں کو معدوم ہونے سے بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ علاقے میں مارخور، برفانی تیندوا، نیلی بھیڑ اور آئی بکس سمیت کئی نایاب جانور پائے جاتے ہیں جن کے تحفظ کے لیے ایسے پروگرامز کو پائیدار بنیادوں پر چلانا ضروری ہے۔