LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات: 2010 سے اب تک کی ٹائم لائن

News Image
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں گائنی وارڈ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں چودہ بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ کوئی پہلا المیہ نہیں ہے۔ پاکستان میں ناقص حفاظتی قوانین اور عمارتوں کے قواعد پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے اسپتالوں میں آگ لگنے کے درجنوں واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ میں بدھ کی صبح لگنے والی آگ کے نتیجے میں چودہ معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد ملک بھر میں اسپتالوں کی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بڑی عمارتوں بالخصوص اسپتالوں میں آگ لگنے کے حادثات معمول بن چکے ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں ناقص حفاظتی قوانین، بلڈنگ کوڈز کی عدم پابندی اور ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہ ہونا شامل ہیں۔ ماضی میں بھی ملک کے مختلف حصوں میں ایسے المناک واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں لیکن متعلقہ اداروں نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اگر ماضی کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو 2010 سے لے کر اب تک اسپتالوں میں آتشزدگی کے متعدد بڑے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جون 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے پیڈیاٹرک میڈیسن وارڈ میں ائیر کنڈیشنگ کے نظام میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ سے گیارہ معصوم بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی طرح فروری 2024 میں کراچی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آگ لگنے سے دو پیرامیڈیکس سمیت چار ملازمین جان کی بازی ہار گئے تھے۔ جنوری 2020 میں کراچی کے قومی ادار برائے امراضِ طفال (NICH) میں انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے ایک نو مولود بچی جاں بحق ہو گئی تھی، جبکہ جون 2012 میں لاہور کے سروسز اسپتال میں آتشزدگی کے دوران کم از کم چار نو مولود بچے لقمہ اجل بن گئے تھے اور 17 زخمی ہوئے تھے۔ اسپتالوں میں آتشزدگی کے ان ہولناک واقعات میں صرف بچوں اور مریضوں کی اموات ہی نہیں ہوئیں بلکہ کروڑوں روپے مالیت کا طبی سامان، ریکارڈ اور عمارتیں بھی جل کر خاکستر ہوئیں۔ مئی 2023 میں لاہور کے چلڈرن ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے ایک بچہ جاں بحق اور ایک جھلس گیا تھا۔ ستمبر 2022 میں نارووال ڈی ایچ کیو اسپتال کے چلڈرن وارڈ کی دوسری منزل پر آگ لگنے سے چالیس بچوں اور پانچ خواتین کو ایمرجنسی میں نکالنا پڑا۔ اسی سال جون کے مہینے میں لاہور کے سروسز اسپتال کی انتظامیہ کو ڈائبیٹک مینجمنٹ سینٹر بند کرنا پڑا کیونکہ آگ نے فرنیچر اور قیمتی ریکارڈ کو جلا ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ اور ملک کے دیگر شہروں کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں بھی شارٹ سرکٹ، گیس سلنڈر دھماکوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر آگ لگنے کے درجنوں واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں بیساکھیوں کے سہارے چلنے والا صحت کا نظام اپنی کمزوریاں بارہا آشکار کر چکا ہے۔ ماہرین اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اسپتالوں جیسے حساس مقامات پر فائر سیفٹی کے جدید نظام کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہسپتالوں کے بیسمنٹس، ایمرجنسی وارڈز، آئی سی یو اور نرسری یونٹس میں آگ بجھانے کے آلات کی موجودگی اور ان کی باقاعدہ جانچ پڑتال کو یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بار بار ہونے والے ان سانحات کے باوجود تاحال کسی بھی بڑے حادثے کے بعد صرف عارضی انکوائری کمیٹیاں بنانے پر اکتفا کیا جاتا ہے اور طویل المدتی حفاظتی اقدامات یا سخت سزاؤں کا نفاذ عمل میں نہیں لایا جاتا، جس کی وجہ سے پمز اسپتال جیسے المناک سانحات بار بار جنم لے رہے ہیں۔