World
برطانوی قانون سازوں کی پاکستان کی امن کوششوں کی تعریف
برطانوی قانون سازوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے قائدانہ کردار اور مصالحتی کوششوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں میں خطے کے اہم امور اور پاکستانی مفادات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
برطانوی قانون سازوں نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت اور فعال مصالحتی کوششوں کو سراہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو ایک بار پھر پذیرائی ملی ہے، جہاں اہم ممالک کے نمائندے خطے میں استحکام لانے کے لیے اسلام آباد کی کاوشوں کو تسلیم کر رہے ہیں۔ برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں اور عالمی برادری امن کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔
اسچ دوران، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دوروں اور ملاقاتوں میں اہم سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ آئی ایم او کے سربراہ سے ملاقات کے دوران انہوں نے صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت اور فوری واپسی کے لیے پرزور اپیل کی اور بین الاقوامی اداروں سے اس ضمن میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
علاوہ ازیں، نائب وزیر اعظم نے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان کے اس کردار پر بھی بریفنگ دی جو اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی بروکرنگ میں ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے اور دنیا بھر میں جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کو تیار رہا ہے۔ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی یہ فعال سفارت کاری ملکی وقار میں اضافے اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے ملک میں ہونے والی آئندہ اہم سفارتی مصروفیت اور تقریبات کی تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ حکومت کا مقصد پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے اپنی تجارتی اور سفارتی شراکت داری کو وسعت دینا ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کی ان سفارتی سرگرمیوں سے خطے میں خیر سگالی کے جذبے کو مزید فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔