LIVE
Loading Breaking News...

ایران عمان آبنائے ہرمز مذاکرات اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

News Image
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والی اس ڈیل کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا گیا ہے۔
عالمی توانائی کی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے کے حوالے سے مذاکرات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار اس حساس موضوع پر ایک مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی تجارت کا تسلسل برقرار رہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک روٹس میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے گزرنے والی تجارت عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اس تناظر میں عمان کا کردار ثالث کے طور پر انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جو فریقین کے درمیان خلیج کے امور پر پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسری جانب، تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ عمان کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ممکنہ ڈیل یا بات چیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کو فی الفور مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں اور فیصلے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات دیکھے گئے ہیں، جہاں امریکی خام تیل کی قیمتیں کم ہو کر تقریباً اسی ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کی خبروں اور ممکنہ امیدوں کی وجہ سے تیل کی مارکیٹ میں وقتی طور پر مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے، کیونکہ تاجر اس خطے میں رسد کے بحران کے خاتمے کی توقع کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی اور سخت پابندیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں تہران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے، جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ان امریکی اقدامات کا مناسب اور سخت جواب دے گا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ دباؤ کی یہ پالیسیاں تہران کو اپنے قومی مفادات اور مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان جاری بات چیت خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ بین الاقوامی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے سے گریز کریں۔ مستقبل کے لائحہ عمل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے دنوں میں تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والے مذاکرات عملی جامہ پہنانے میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔