LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں فلسطین ایکشن تنظیم پر پابندی اور دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ

News Image
برطانوی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت فلسطین ایکشن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کے بعد اب اس تنظیم کی حمایت کرنا قانونی طور پر جرم بن گیا ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے ایک انتہائی اہم فیصلے کے تحت 'فلسطین ایکشن' نامی تنظیم کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے دائرہ کار میں لاتے ہوئے ایک دہشت گرد گروہ قرار دے دیا ہے۔ اس نئے اقدام کے بعد برطانیہ میں اس تنظیم کی کسی भी قسم کی حمایت، اس کے ساتھ الحاق یا اس کے حق میں سرگرمیاں انجام دینا مکمل طور پر غیر قانونی قرار پا چکا ہے۔ سنہ 2025 کے دوران سامنے آنے والے اس حکومتی فیصلے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ فلسطین ایکشن ماضی میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں اور کارپوریشنز کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور براہ راست کارروائیوں کے حوالے سے جانی جاتی تھی۔ تنظیم کے اراکین برطانیہ میں اسلحہ فراہم کرنے والے کارخانوں اور دفاتر کے باہر احتجاج کرتے رہے ہیں تاکہ غزہ اور فلسطین میں جاری کشیدگی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ تاہم، حکومت نے ان سرگرمیوں کو سخت قوانین کے تحت اب انتہائی شدت سے جانچنا شروع کر دیا ہے۔ نئے قوانین کے نفاذ کے بعد اب کسی بھی شہری کے لیے اس تنظیم کی مالی امداد کرنا، اس کے بیانیے کی تائید میں مواد پھیلانا یا اس کے مظاہروں میں شرکت کرنا سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس حوالے سے وسیع اختیارات تفویض کیے گئے ہیں تاکہ وہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔ ناقدین اور انسانی حقوق کے حامیوں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی امن و امان اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔