LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پابندیاں: ماہان ایئر اور ایران سے جڑے نیٹ ورکس نشانہ بن گئے

News Image
امریکہ نے ایران کی ماہان ایئر اور اس کے عالمی حمایتی نیٹ ورک کے خلاف سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایران کے اثاثوں اور عسکری نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کی مشہور ایئر لائن ماہان ایئر اور اس کے عالمی حمایتی نیٹ ورک کے خلاف سخت نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ تازہ ترین اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن کی جانب سے تہران کے مالی اور عسکری اثاثوں کے خلاف جاری مہم کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ پابندیاں اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کے ان نیٹ ورکس کو بے اثر کرنا ہے جو خطے میں اس کی سرگرمیوں کو سہارا فراہم کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے نیٹ ورکس میں ماہان ایئر کے سیلز ایجنٹس اور دیگر متعلقہ ادارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک مبینہ ایران سے منسلک بٹ کوائن انشورنس اسکیم کو بھی امریکی وزارتِ خزانہ کی طرف سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح جدید مالیاتی آلات اور ڈیجیٹل کرنسیوں کو مبینہ طور پر پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ نیٹ ورکس نہ صرف ماہان ایئر کو تجارتی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہے تھے بلکہ پاسدارانِ انقلاب اور دیگر عسکری اداروں کے مفادات کو بھی آگے بڑھا رہے تھے۔ عالمی سطح پر جاری اس کارروائی کا مقصد ایرانی حکومت کی ان کوششوں کو ناکام بنانا ہے جن کے ذریعے وہ بین الاقوامی پابندیوں کو طویل عرصے سے چیلنج کرتی چلی آ رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان پابندیوں سے ماہان ایئر کی بین الاقوامی پروازوں اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تہران پر دباؤ بڑھانے کی یہ تازہ کوششیں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ عالمی معیشت اور بحری سلامتی کے تناظر میں ان پابندیوں کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔