World
فلسطینی مصور سلیمان منصور کی آخری رسومات اور تعزیتی سرگرمیاں
فلسطینی ثقافت اور شناخت کی عکاسی کرنے والے معروف مصور سلیمان منصور اناسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں مداحوں اور فن دوستوں نے شرکت کی۔
فلسطین کے مشہور اور نامور مصور سلیمان منصور، جن کی عمر اناسی برس تھی، کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔ سلیمان منصور کو ان فن پاروں کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت حاصل تھی جو فلسطین کے خوبصورت مناظر اور وہاں کی بھرپور ثقافتی روایات کو اجاگر کرتے تھے۔ ان کے فن میں فلسطینی شناخت کی علامتیں نمایاں طور پر دکھائی دیتی تھیں، جو فلسطینی عوام کی جدوجہد اور ان کی ثقافت سے محبت کی عکاس تھیں۔
اپنی زندگی بھر سلیمان منصور نے فن کو مزاحمت اور شناخت کا ذریعہ بنایا۔ ان کے شاہکار پینٹنگز میں زیتون کے درخت، پرانے فلسطینی دیہات اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کو نہایت خوبصورتی سے پینٹ کیا گیا تھا۔ ان کا کام نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی آرٹ کے نقادوں اور شائقین کی توجہ کا مرکز رہا۔ ان کی وفات سے فلسطینی ثقافتی اور فنی حلقوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا بہت مشکل ہو گا۔
آخری رسومات کے موقع پر بڑی تعداد میں مقامی شہریوں، فنکاروں، دانشوروں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ سلیمان منصور نے اپنے برش کے ذریعے فلسطینی تاریخ اور شناخت کو زندہ رکھا اور ان کے کام آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔ ان کے انتقال پر مختلف حلقوں کی طرف سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔