LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مہنگائی کی تازہ صورتحال اور معاشی اثرات

News Image
امریکہ میں جولائی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں کوئی بڑی کمی واقع نہیں ہوئی اور صورتحال مسلسل برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو مزید خراب کر دیا ہے۔
امریکہ میں جولائی کے دوران مہنگائی کی شرح میں کوئی بڑی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور معاشی دباؤ بدستور برقرار ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی یہ بلند سطح عام صارفین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے کیونکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء اور خدمات کی لاگت میں کوئی نمایاں کمی نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی مرکزی بینک کے لیے بھی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے فیصلے کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی امیدیں فی الحال پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں اور معیشت میں جمود کی سی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے۔ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان فوجی کارروائیوں اور خطے میں پیدا ہونے والے تناؤ کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اس تیزی سے اضافے نے براہ راست نقل و حمل اور پیداواری لاگت کو بڑھا دیا ہے جس کے اثرات تمام معاشی شعبوں پر پڑ رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں کمی نہ آئی اور توانائی کی فراہمی معمول پر نہ آئی تو مہنگائی کا یہ طوفان مزید پھیل سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ مالیاتی ادارے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے تاہم فی الحال حالات انتہائی غیر یقینی کا شکار ہیں۔