World
آبِ ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے سکیورٹی خدات اور خطرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے امریکی دعوؤں کے باوجود جہاز رانی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوئی۔ خطے میں جاری کشیدگی اور سکیورٹی خدات کی وجہ سے بحری تجارت کو تاحال شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز میں بارودی سرنگوں کے صفائے کے امریکی دعوؤں کے باوجود وہاں بحری جہازوں کے لیے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ حال ہی میں امریکی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بغیر کسی خوف کے جاری رہ سکے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صرف بارودی سرنگوں کا خاتمہ جہاز رانی کو مکمل طور پر 'محفوظ' بنانے کے لیے کافی نہیں۔ آبِ ہرمز میں سلامتی کے دیگر کئی ایسے عوامل ہیں جو جہاز رانی کی صنعت کو پریشان کیے ہوئے ہیں۔ ان میں چھوٹے مسلح بحری جہازوں کی نقل و حرکت، ڈرون حملوں کے خطرات، اور علاقائی کشیدگی کے وہ سیاسی محرکات شامل ہیں جو کسی بھی وقت ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے تجارتی کمپنیوں اور شپنگ انشورنس کے اداروں میں خوف کی فضا تاحال برقرار ہے۔
عالمی تجارت کے لیے اس گزرگاہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے کیونکہ دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔ جب تک خطے میں سیاسی استحکام اور مستقل بنیادوں پر سکیورٹی کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی، محض عسکری کارروائیاں یا سرنگوں کا صفایا بحری کمپنیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوگا۔ شپنگ انڈسٹری سے وابستہ حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ پر مستقل امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔