LIVE
Loading Breaking News...

روسی صدر پوتین اور احمد الشرع کی ملاقات، فوجی اڈوں پر بات

News Image
روسی صدر ولادیمیر پوتین اور شام کے رہنما احمد الشرع کے درمیان ماسکو اور دمشق کے تعلقات پر اہم بات چیت ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں شامی سرزمین پر موجود روسی فوجی اڈوں کے مستقبل سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔
ماسکو میں ہونے والے ایک اہم سفارتی اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتین اور شام کے رہنما احمد الشرع نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی محور شامی سرزمین پر روس کے اہم فوجی اڈوں کا مستقبل تھا، جن میں حمیمیم ایئر بیس اور طرطوس بحری اڈہ سرفہرست ہیں۔ ماضی میں روس ان اڈوں کو بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، اور اب بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے دوطرفہ تعاون ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق، شام کی نئی قیادت کے لیے روس کے ساتھ طے پانے والے سابقہ عسکری اور اسٹریٹجک معاہدوں کی پاسداری ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ دمشق اب ملک کے اندرونی حالات کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو از سر نو استوار کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو شام کے ساتھ اپنے طویل المدتی تعلقات کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم اس عمل میں نئی زمینی حقائق اور بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ دونوں فریقین نے سفارتی اور عسکری سطح پر رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی فریق کے اسٹریٹجک مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں اہمیت کے حامل ہیں جب شام اندرونی عبوری مراحل سے گزر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کار اس پیش رفت کو روس اور شام کے مابین تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور سیاست پر مرتب ہوں گے۔