World
نیپال میں تباہ کن سیلاب، 160 اموات اور سیکڑوں لاپتہ
نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں خوفناک سیلاب اور تودے گرنے کے باعث کم از کم 160 افراد جاں بحق اور سیکڑوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کرنے اور متاثرین کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔
نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے ایک انتہائی خوفناک سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 160 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپالی پولیس نے بدھ کے روز اپنے ایک آپریشنل اپ ڈیٹ میں بتایا کہ انہوں نے مزید لاشیں برآمد کی ہیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 157 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس ناگہانی آفت کے نتیجے میں سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی رابطے سے باہر ہو گئے ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ چین اور نیپال کے درمیان بہنے والے ایک دریا کے کناروں سے مٹی اور ملبے کا ایک طوفان اچانک امڈ آیا جس نے عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور علاقے میں شدید تباہی مچائی۔ چینی حکمرانوں کے مطابق اس آفت کے نتیجے میں ابتدائی اعداد و شمار کے تحت کئی افراد لقمہ اجل بنے اور بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہوئے، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے متعلقہ اداروں کو تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے فوری اور بھرپور امدادی کارروائیاں کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ دوسری جانب نیپال کے وزیر اعظم نے ہمالیائی ملک کے عوام سے مشکل کی اس گھڑی میں متحد رہنے کی اپیل کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاست اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام متاثرہ افراد کی ریسکیو، طبی امداد، خوراک اور عارضی رہائش کی مکمل ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ وزارت سیاحت کے ذرائع کے مطابق متعدد غیر ملکی سیاح بھی اس حادثے کے بعد لاپتہ ہیں جن میں امریکی، بھارتی، آسٹریلوی، ملائیشین اور برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔ نیپالی پولیس اور انتظامیہ نے دریائے کے کنارے رہنے والے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ نیپالی فوج نے امدادی کارروائیوں کے لیے ہیکاپٹرز اور خصوصی ریسکیو اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ اس تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی کے پن بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس سے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام معطل ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آفت شاید نیپال کی طرف سے آنے والے برفانی یا چٹانی تودے کے گرنے سے رونما ہوئی جس نے دریا کا رستہ روکا اور اس کے نتیجے میں ایک بڑا سیلابی ریلا آیا۔ اس سانحہ پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دنیا کے کئی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور نیپالی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔