LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال آگ کا واقعہ: چودہ بچوں کی ہلاکت اور unanswered سوالات

News Image
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں چودہ بچوں کے جاں بحق ہونے کے گھنٹوں بعد بھی کئی سوالات اور ابہام برقرار ہیں۔ جائے وقوعہ پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کی سخت ناکہ بندی کے باوجود متاثرہ خاندانوں اور صحافیوں میں غم و غصہ پایا گیا۔
اسلام آباد کے معروف پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال (ایم سی ایچ) وارڈ میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کو گھنٹوں گزر جانے کے باوجود صورتحال انتہائی کشیدہ اور ابہام کا شکار ہے۔ اس المناک حادثے میں چودہ معصوم شیرخوار بچے لقمہ اجل بن گئے تھے، جس کے بعد اسپتال کے اطراف میں صحافیوں، کیمرا مینوں اور لواحقین کا ہجوم جمع ہوگیا۔ اہم مقامات پر پولیس اور ہسپتال کے گارڈز تعینات کیے گئے تھے تاکہ میڈیا یا کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے سے روکا جا سکے، جس کی وجہ سے واقعے کے محرکات کے بارے میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں اور افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو عمارت کے اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وارڈ کے دروازے اندر سے بند یا لاک تھے۔ प्रत्यक्षदर्शियों اور فائر فائٹرز کے مطابق، بچوں کو بچانے کے لیے ریسکیو اہلکاروں نے عمارت کی کھڑکیوں اور کنکریٹ کی جالیوں کو توڑ کر اندر راستہ بنایا۔ بعض ذرائع کا کہنا تھا کہ زچگی کے وارڈ کو تالے لگانے کا مقصد بچوں کو مبینہ اغوا سے بچانا تھا، تاہم اس حفاظتی اقدام نے ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا۔ آتشزدگی کی اصل وجوہات کے بارے میں بھی متضاد آراء سامنے آئیں، جہاں کچھ افراد نے ائیر کنڈیشنگ سسٹم میں خرابی کو ذمے دار ٹھہرایا تو کچھ نے انکیوبیٹرز میں شارٹ سرکٹ کا شبہ ظاہر کیا۔ واقعے کے فوراً بعد سیاسی شخصیات اور رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا، جن میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ سیاسی رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے معلومات چھپانے اور میڈیا کو اندر جانے سے روکنے پر کڑی تنقید کی اور اسے کور اپ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ اس کے علاوہ لاشوں کی شناخت اور ان کی جلد بازی میں تدفین کے عمل پر بھی لواحقین اور عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ مغربی راہداری سے آنے والی جلے ہوئے پلاسٹک اور گوشت کی بو اس سانحے کی ہولناکی کی گواہی دے رہی تھی، مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی ذمے دار باضابطہ طور پر سوالات کے جواب دینے کے لیے موجود نہیں تھا۔