Pakistan
وزیراعظم کا پمز ہسپتال میں آتشزدگی پر تحقیقات کا حکم
وزیراعظم نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی آگ کے واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ متعلقہ انکوائری کمیٹی کو واقعے کی تہہ تک پہنچنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے ایک سخت ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں हाल ہی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے ناخوشگوار واقعے کا وزیراعظم پاکستان نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حادثے کے بعد ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ محکموں میں ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کو سامنے لایا جا سکے۔
حکومتی احکامات کے مطابق تشکیل دی جانے والی انکوائری کمیٹی کو ایک سخت ڈیڈ لائن دی گئی ہے جس کے اندر اندر انہیں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ کمیٹی کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے کہ آیا یہ واقعہ کسی تکنیکی خرابی، شارٹ سرکٹ یا پھر انسانی غفلت کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں حفاظتی انتظامات اور فائر فائٹنگ کے آلات کی موجودگی اور ان کے فعال ہونے سے متعلق بھی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ غفلت یا لاپرواہی ثابت ہونے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ملک کے بڑے طبی اداروں میں مریضوں اور عملے کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ پمز ہسپتال کے اس واقعے کے بعد ملک بھر کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تمام طبی مراکز میں حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جا سکے۔