Health
امریکہ میں ذہنی صحت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال
امریکہ میں ذہنی صحت کے بحران سے نبرد آزما افراد اب پیشہ ورانہ مدد کے بجائے مصنوعی ذہانت اور چیٹ بوٹس کا رخ کر رہے ہیں۔ ماہرین اس رجحان کے خطرات اور فوائد دونوں پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکہ میں بڑھتے ہوئے ذہنی صحت کے بحران کے دوران ایک نیا اور دلچسپ رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں پریشان حال افراد روایتی ماہرینِ نفسیات یا تھراپسٹ سے رابطہ کرنے کے بجائے اپنے کمپیوٹر اور موبائل فونز کا رخ کر رہے ہیں۔ لوگ اپنے ذہنی مسائل، تنہائی اور پریشانیوں کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) چیٹ بوٹس پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اب ڈیجیٹل دوستوں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جو ہر وقت اور بغیر کسی فیس کے بات سننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی معاشرے میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری جانب، نفسیاتی ماہرین نے اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام انسانوں کی طرح حقیقی جذبات، ہمدردی اور پیشہ ورانہ طبی تشخیص کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ کسی بھی بحران کی صورت میں اے آئی کا غلط مشورہ یا حل مریض کی حالت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ روایتی تھراپی میں جو بھروسہ اور گہرا تعلق ایک ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ہوتا ہے، وہ کسی الگورتھم یا کمپیوٹر کوڈ کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو معاون کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ حقیقی ڈاکٹر کے متبادل کے طور پر۔
اس کے باوجود، لوگوں کا اے آئی کی طرف رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاشرے میں ذہنی صحت کی سہولیات کتنی مہنگی اور نایاب ہو چکی ہیں۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی بہت سے افراد یا تو مہنگے تھراپسٹ کی فیس برداشت نہیں کر سکتے یا پھر روایتی علاج سے وابستہ سماجی دباؤ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں، مصنوعی ذہانت انہیں فوری طور پر ایک محفوظ اور نجی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور طبی ادارے اس ابھرتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔