LIVE
Loading Breaking News...

عالمی معیشت اور مصنوعی ذہانت: آئی ایم ایف کی نئی رپورٹ

News Image
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کی ترقی کو تیزی سے آگے بڑھائے گی۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے مناسب حکمرانی اور مالیاتی ڈھانچے کی اشد ضرورت ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی عالمی معاشی ترقی کا ایک بہت بڑا محرک ثابت ہوگی۔ حالیہ دنوں میں یہ رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری صرف امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کی جانب سے یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ اے آئی کا یہ عالمی ترقیاتی پوٹینشل منصفانہ سرمایہ کاری اور موثر حکمرانی سے مشروط ہے۔ جن ممالک کے پاس مناسب ریگولیٹری فریم ورک اور مالیاتی وسائل کی کمی ہے، وہاں اس ٹیکنالوجی کے غیر متوازن پھیلاؤ کی وجہ سے معاشی عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اس لیے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو چاہیے کہ وہ اس شعبے میں پالیسی سازی پر خصوصی توجہ دیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تمام ممالک باہمی تعاون کے ساتھ مضبوط ضابطہ اخلاق اور مالیاتی ڈھانچے تشکیل دیں، تو مصنوعی ذہانت نہ صرف پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے بلکہ غربت اور روزگار کے مسائل حل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی کے خطرات کو کم کرتے ہوئے اس کے مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔