World
اسرائیل حماس جنگ بندی، امن عمل اور عالمی خدشات
بین الاقوامی مندوب نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کی ناکامی خطے کو ایک خطرناک اور ناقابل واپسی موڑ پر لے آئے گی۔ اس صورتحال سے مشرق وسطیٰ کے امن کے عمل کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی امن مندوب نکولے ملاڈینوف نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کی ناکامی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے فریقین کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے جس سے خطے میں جاری امن کا دیرینہ عمل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ مندوب کے مطابق اس کشیدگی اور عدم اعتماد کے ماحول کی وجہ سے عام شہریوں کے مصائب میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی برادری کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی غزہ میں جاری حالیہ بمباری اور فضائی حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے امن بورڈ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ اس طرح کی عسکری کارروائیاں حماس کے ہتھیار پھینکنے کے عمل کو مزید تاخیر کا شکار بنا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ فوجی دباؤ کے ذریعے فوری طور پر دیرپا امن کا حصول ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سیاسی و سفارتی سطح پر سنجیدہ مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب، صیہونی ریاست کے سفارتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ حماس کی جانب سے فلسطینی عوام کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے اور وہ جنگی ماحول کو طویل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
ادھر، تنازع کے حل کے لیے قائم کردہ امن بورڈ کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس نے اصولاً اپنے ہتھیار ڈالنے اور غزہ کی انتظامیہ سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ عسکری اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر فائر بندی کو بحال نہ کیا گیا تو یہ تنازع پوری مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور فریقین سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔