LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ کی کینیڈی سینٹر کو گرانے کی دھمکی اور تزئین و آرائش کا تنازع

News Image
ٹرمپ کے عہدے داروں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر عدالت نے کینیڈی سینٹر کی تزئین و آرائش کے منصوبے کو روکا تو عمارت کو منہدم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ محکمہ انصاف نے جون میں عدالتی حکم پر ہٹائے جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کو عمارت پر دوبارہ نصب کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کے معروف کینیڈی سینٹر کے معاملے پر سیاسی اور قانونی محاذ آرائی میں اس وقت ایک نیا اور ڈرامائی موڑ آ گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے عدالت کی جانب سے تزئین و آرائش کے کام کو روکے جانے کی صورت میں پوری عمارت کو ہی منہدم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس تاریخی مرکز کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور اس کی تعمیر و مرمت کرنا انتہائی ناگزیر ہے تاکہ آنے والے زائرین اور فنکاروں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس تنازع نے وفاقی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ مخالفین اس منصوبے کو قانونی چارہ جوئی کے ذریعے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس پورے تنازع کے دوران محکمہ انصاف نے ایک اور اہم قانونی قدم اٹھاتے ہوئے عدالت سے باضابطہ استدعا کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام عمارت پر دوبارہ بحال کیا جائے۔ واضح رہے کہ رواں سال جون میں ایک عدالتی حکم کے بعد اس عمارت سے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا تھا جس پر انتظامیہ اور اس کے حامیوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ محکمہ انصاف کی نئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نام کو ہٹانا قانونی تقاضوں کے منافی تھا اور اسے سابقہ حیثیت میں واپس لایا جانا چاہیے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ کینیڈی سینٹر کا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات اور فیصلوں پر کشمکش جاری ہے۔ عمارت کے انہدام کی دھمکی نے اس تنازع کو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جہاں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاسی شخصیات کی نامزدگی کے معاملات پر شدید آراء سامنے آ رہی ہیں۔ شہری حقوق کی تنظیمیں اور ثقافتی حلقے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید قانونی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے۔